1 thought on “3rd April 2014 KA SABAQ

  1. السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    نحمده ونصلي علي رسوله الكريم, أما بعد !
    آج کا سبق سن لیجیے!
    بہت اہم سبق ہے، نصیحت ہے،

    حضور صلی اللہ علیه وسلم ایک مرتبہ تشریف فرما تھے، سارے صحابہ بیٹھے ہوۓ، آپ صلی اللہ علیه وسلم نے فرمایا دیکھو ابھی دروازے سے ایک آدمی آیٔگا وہ جنّتی ہے، صحابہ نے دروازے کی طرف دیکھا ایک صحابی آۓ جن کا نام سعد ابن ابی وقاص تھا اپنے جوتے لے کر آۓ اور بیٹھ گیٔے۔
    صحابہ سمجھ گیٔے کہ یہی جنتی ہیں آدمی۔ دوسرے دن حضور صلی اللہ علیه وسلم نے فرمایا دیکھو ابھی ایک آدمی آیٔگا وہ جنّتی ہے، صحابہ نے پھر دیکھا، تو دوسرے دن بھی وہی صحابی آۓ، سعد ابن ابی وقاص، یعنی دو مرتبہ آپ نے کہا۔
    تیسرے دن آپ صلی اللہ علیه وسلم نے کہا کہ دیکھو ابھی ایک آدمی آیٔگا دروازے سے جنّتی ہے، صحابہ نے پھر دیکھا، تو تیسرے دن بھی وہی آۓ،
    یعنی تین دن حضور صلی اللہ علیه وسلم کہتے رہے کہ وہ جنتی ہے، جنتی ہے، جنتی ہے۔
    تو ایک نوجوان صحابی تھے حضرت عبداللہ ابن عمرو ابن عاص، انہوں نے کہا، میں ذرا جاکے دیکھوں کہ کیا کام کرتے ہیں یہ، کیا نیکی کرتے ہیں۔
    مہمان بنے آکر، کویٔی خاص نیکی تو دیکھی نہیں، تین دن مہمان بنکر جب جانے لگے تو انہیں نے سعد ابن ابی وقاص سے پوچھا کہ بھیٔ تین مرتبہ، تین دن حضور صلی اللہ علیه وسلم نے فرمایا کہ تم جنتی ہو، جنتی ہو، جنتی ہو۔ تمہاری کویٔی نیکی تو بتاؤ، تو سعد ابن ابی وقاص نے کہا میری چھپی ہویٔ نیکی ہے۔
    دھیان سے سننا میرے بھایٔوں ہاں بہنوں بہت دھیان سے سننا۔ چھپی ہویٔ نیکی ہے جسے میں ہی جانتا ہوں، اللہ جانتا ہے، لیکن چونکہ اب تم میرے ہاں مہمان بنے اور وہ نیکی تم دیکھ نہیں سکے اور حضور صلی اللہ علیه وسلم نے فرمایا کہ جنتی ہے، جنتی ہے، جنتی ہے، اب میں ظاہر کرتا ہوں، اور وہ میری چھپی ہویٔ نیکی یہ ہے، جب رات کو میں سوتا ہوں تو میرے دل میں سے سارے مسلمانوں کے بارے میں کویٔ بھی چیز ہو میں نکال کے پاک صاف دل کر کے سوتا ہوں، سب کو معاف کرکے سوتا ہوں، یا اللہ جس نے بھی مجھے تکلیف پہنچایٔ ہو، کچھ بھی گالی دی ہو، پریشان کیا ہو، غیبت کی ہو، اے اللہ میں سب کو معاف کر دیتا ہوں، کیوں میں اسکا کویٔ حق رکھوں تیرے سامنے
    کہ کل قیامت کے میدان میں مَیں اسکو لے کر کھڑا ہو جاؤں تیرے سامنے، اے اللہ میں نے تو معاف کر دیا میرا دل صاف ہے۔ بس وہ نیکی ہے جس نیکی کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیه وسلم نے کہا ہے یہ جنتی ہے۔
    اس لیٔے رات کو جب سو، نصیحت، رات کو جب سو تو سب کی طرف سے اپنے دل کو صاف کر کے سو، دل میں کویٔ میل مت رکھو، دل میں کویٔ کپٹ مت رکھو، اے اللہ سب کو معاف کر دیا۔ اللہ تعالی ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ،
    تو آپ کی محبوبیت بھی بڑھےگی اور آپ کی مقبولیت بھی بڑھیگی اور اللہ تعالی جو ہے ہمیں معاف بھی، اس کی برکت سے اللہ تعالی ہمیں عزت بھی دیگا، اس لیےاپنے دل کو صاف کرکے سویا کرو۔
    والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    اچھا یہ حدیث ’حیات الصحابہ‘ میں ہے۔ میں حوالہ دینا بھول گیا۔ ’بکھرے موتی‘ میں بھی کسی جگہ ہے ، ’حیات الصحابہ‘ میں بھی ہے اور بہت کتابوں میں یہ حدیث ہے اس لیے اور ذیادہ ڈھونڈنے کی ضرورت ہے نہیں۔
    والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    واخر داعوان ان الحمدالله رب العلمين

    Post: https://plus.google.com/101439335192385976537/posts/U76apJuYM4z

Leave a Reply