1 thought on “2nd April 2014 KA SABAQ

  1. السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
    أما بعد !
    آج کا سبق سن لیجیے!
    حضور اکرم صلی اللہ علیه وسلم پیر کے دن مسجدِ فتح میں گیے دعا مانگی، دعا قبول نہیں ہوئی؛ منگل کے دن گیے دعا مانگی، دعا قبول نہیں ہوئی؛
    بدھ کے دن تشریف لے گیے دعا مانگی، دعا قبول ہو گئی، ظہر اور عصر کے درمیان۔ یہ حدیث میں آتا ہے اور یہ حدیث یہ ’ادب المفرد‘ میں بھی ہے، ’شعب الایمان‘ میں بھی ہے، دوسری کئی کتابوں میں ہے علما دیکھ لیں وہاں۔
    تو علما نے لکھا ہے کہ حضرت جابر رضي اللہ عنه جو اس حدیث کے راوی ہیں وہ روایت کرتے ہیں کہ مجھے جب بھی کوئی خطرناک معاملہ پیش آتا، اور کوئی بھی میری حاجت ہوتی تو میں بدھ کے دن کا انتظار کرتا اور ظہر اور عصر کے درمیان ایک گھڑی جو، جس میں اللہ دعا قبول کرتا ہے، جس میں حضور صلی الله علیه وسلم کی دعا قبول ہو ئی تھی، میں ظہر سے لے کر عصر تک دعا میں لگ جاتا، تو میرا معمول رہا کہ جب بھی میں نے بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا مانگی اللہ نے میری دعا قبول کی، اور میری حاجتیں پوری ہو ئیں، یہ حضرت جابر رضي اللہ عنه کہا کرتے تھے اور روایتوں میں بھی ہے۔
    اس لیے کل(آج) بدھ کا دن ہے، تو ظہر اور عصر کے درمیان آپ بہت احتمام کے ساتھ جو بھی اپنی حاجت ہو اللہ کے سامنے پیش کرو وہ وقت بھی دعا کی قبولیت کا ہوتا ہے. بدھ کے دن کو ظہر اور عصر کے درمیان، جس طرح جمعہ دن ایک گھڑی ہوتی ہے دعا کی قبولیت کی ویسے بدھ کے دن بھی ظہر اور عصر کے درمیان دعا کی قبولیت کی گھڑی ہوتی ہے۔ جب بھی دعا مانگو تو میرے لیے بھی دعا مانگ لینا بھائی اور میرے بیوی بچّوں کے لیے بھی دعا مانگ لینا اور پوری امّت کے لیے بھی دعا مانگ لینا، اللہ تعالی ہم سب کی جائز مرادوں کو پوری فرمائے اور اللہ تعالی ہمیں وہ کام کرنے کی توفیق دے جس سے اللہ خوش ہو جاۓ اور اللہ اس کام سے بچنے کی توفیق دے جس سے اللہ ناراض ہو جاۓ۔
    یہ قصّہ جو میں نے بیان کیا ہے، اچھّا ایک بات یاد رکھنا، بعض لوگوں کے و بعض علما کے ذہن میں یہ بات آۓ گی، وہ تو مسجدِ فتح میں دعا مانگی حضور صلی اللہ علیه وسلم نے، بھیٔ مسجدِ فتح میں مانگی لیکن حضرت جابر رضي اللہ عنه کا جو معمول تھا وہ مسجدِ فتح کا نہیں تھا ، وہ تو اپنے سفر میں حضر میں جہاں رہتے تھے حضرت جابر رضي اللہ عنه دعا مانگتے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ مسجدِ فتح کی خصوصیت نہیں ہے بلکہ اس وقت کی خصوصیت ہے، ظہر اور عصر کے درمیان بدھ کے دن۔
    اللہ تعالی ہم سب کی جایٔز مرادوں کو پوری فرماۓ، یہ علما کے لیے میں نے کہہ دیا ہے ، یہ حدیث دیکھنی ہو تو ’ادب المفرد‘ میں دیکھ لو، ’شعب الایمان‘ مین دیکھ لو، سب جگہ پر دیکھ لوآپ کو مل جاوے گی۔
    والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ
    وسلام على المرسلين والحمد للّه رب العالمين

Leave a Reply